“So lost is Akbar in the memory of an arched brow; when will this crooked obsession of yours ever depart?”
اکبر محبوب کی خمیدہ بھنوؤں کی یاد میں اس طرح کھویا ہوا ہے کہ معلوم نہیں اس کی یہ کج فکری کب دور ہوگی۔
اس شعر میں اکبرؔ الہ آبادی نے اپنے روایتی ظریفانہ اور شوخ انداز میں خود کو ہی ہدفِ ملامت بنایا ہے۔ محبوب کا خمدار ابرو چونکہ ٹیڑھا ہوتا ہے، اس لیے اس کی یاد میں کھوئے رہنے کو انہوں نے لفظی مناسبت سے 'کج خیالی' یعنی الٹی سوچ کا نام دیا ہے۔ یہ عاشق کی اس معصومانہ اور میٹھی ضد کی عکاسی ہے جس میں دل محبوب کی ایک ادا پر ایسا اٹکتا ہے کہ سنبھلنے کا نام نہیں لیتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
