“What fear of worldly sorrow can daunt a reveler like me? One more bottle shall simply be drained away.”
مجھ شرابی کو زمانے کے دکھوں کا کیا ڈر ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی غم ہوا بھی تو شراب کی ایک اور بوتل پی لی جائے گی۔
اس شعر میں شاعر روایتی ’رند‘ کا بے باک اور قلندرانہ انداز اپنا کر دنیاوی پریشانیوں کو خاطر میں لانے سے انکار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ زمانے کے دکھ اس کا حوصلہ نہیں توڑ سکتے، غم ذرا زیادہ ہو بھی گیا تو ایک اور بوتل پی کر اسے اڑا دیا جائے گا۔ یہ محض مے نوشی کا ذکر نہیں، بلکہ دنیا کے فرسودہ جھمیلوں اور غموں کو ٹھوکر مار کر اپنی مستی میں جینے کا فلسفہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
