غزل

شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم

شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم
ولی دکنی· Ghazal· 5 shers· radif: हैं हम

یہ غزل عشق کے سرور اور کیفیتِ بے خودی کے زیرِ اثر عاشق کے تغیر پذیر جذباتی احوال کو بیان کرتی ہے۔ محبوب کی تغافل پسندی اور رنگ برنگی کے سبب عاشق کبھی خود رفتہ اور مطمئن ہوتا ہے تو کبھی ہوشیار اور بیزار۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
शराब-ए-शौक़ सें सरशार हैं हम कभू बे-ख़ुद कभू हुशियार हैं हम
شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم کبھو بے خود کبھو ہشیار ہیں ہم
ہم شوق اور محبت کی شراب سے پوری طرح مخمور ہیں، اسی لیے کبھی تو ہم اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتے ہیں اور کبھی بالکل باہوش رہتے ہیں۔
2
दो-रंगी सूँ तिरी ऐ सर्व-ए-रा'ना कभू राज़ी कभू बेज़ार हैं हम
دو رنگی سوں تری اے سرو رعنا کبھو راضی کبھو بیزار ہیں ہم
اے خوبصورت محبوب، تمہارے بدلتے ہوئے اور دوغلے رویے کی وجہ سے ہم کبھی تم سے راضی ہوتے ہیں اور کبھی بیزار ہو جاتے ہیں۔
3
तिरे तस्ख़ीर करने में सिरीजन कभी नादाँ कभी अय्यार हैं हम
ترے تسخیر کرنے میں سریجن کبھی ناداں کبھی عیار ہیں ہم
اے محبوب، تجھے مسخر کرنے اور اپنا بنانے کی کوشش میں ہم کبھی معصوم و نادان بن جاتے ہیں اور کبھی بے حد مکار اور چالاک۔
4
सनम तेरे नयन की आरज़ू में कभू सालिम कभी बीमार हैं हम
صنم تیرے نین کی آرزو میں کبھو سالم کبھی بیمار ہیں ہم
اے محبوب، تمہاری آنکھوں کی تمنا میں ہم کبھی بالکل تندرست ہوتے ہیں اور کبھی بیمار پڑ جاتے ہیں۔
5
'वली' वस्ल-ओ-जुदाई सूँ सजन की कभू सहरा कभू गुलज़ार हैं हम
ولیؔ وصل و جدائی سوں سجن کی کبھو صحرا کبھو گل زار ہیں ہم
اے ولی، محبوب کے ملن اور اس کی جدائی کے سبب ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کبھی ویران صحرا کی مانند ہو جاتے ہیں اور کبھی پُربہار گلزار کی طرح۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.