غزل
دل طلب گار ناز مہوش ہے
دل طلب گار ناز مہوش ہے
یہ غزل ایک چاند جیسے حسین محبوب کے ناز و ادا کے لیے عاشق کی بے تاب طلب اور والہانہ وابستگی کو بیان کرتی ہے۔ محبوب کی سرکشی، شوخی اور بے وفائی سے باخبر ہونے کے باوجود عاشق کا دل اس کے دلکش حسن کا اسیر ہے اور وصال کی دشواری پر حیرت زدہ ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
दिल तलबगार-ए-नाज़-ए-मह-वश है
लुत्फ़ उस का अगरचे दिलकश है
دل طلب گار ناز مہوش ہے
لطف اس کا اگرچہ دل کش ہے
دل چاند جیسے چہرے والے محبوب کے ناز و نخرے کا طلب گار ہے، اگرچہ اس کی عنایت اور مہربانی بھی نہایت دل کش ہے۔
2
मुझ सूँ क्यूँ कर मिलेगा हैराँ हूँ
शोख़ है बेवफ़ा है सरकश है
مجھ سوں کیوں کر ملے گا حیراں ہوں
شوخ ہے بے وفا ہے سرکش ہے
میں اس بات پر حیران ہوں کہ وہ مجھ سے کیسے ملے گا، کیونکہ وہ شوخ، بے وفا اور سرکش ہے۔
3
क्या तिरी ज़ुल्फ़ क्या तिरे अबरू
हर तरफ़ सूँ मुझे कशाकश है
کیا تری زلف کیا ترے ابرو
ہر طرف سوں مجھے کشاکش ہے
خواہ تمہاری زلفیں ہوں یا تمہاری بھنویں، مجھے ہر طرف سے کھنچاؤ اور کشمکش کا سامنا ہے۔
4
तुझ बिन ऐ दाग़-बख़्श-ए-सीना ओ दिल
चमन-ए-लाला दश्त-ए-आतश है
تجھ بن اے داغ بخش سینہ و دل
چمن لالہ دشت آتش ہے
اے میرے سینے اور دل کو داغ دینے والے محبوب، تیرے بغیر لالہ کے پھولوں کا باغ بھی آگ کا صحرا بن گیا ہے۔
5
ऐ 'वली' तजरबे सूँ पाया हूँ
शोला-ए-आह-ए-शौक़ बे-ग़श है
اے ولیؔ تجربے سوں پایا ہوں
شعلۂ آہ شوق بے غش ہے
اے ولی، میں نے اپنے تجربے سے یہ جانا ہے کہ شوق کی آہ کا شعلہ ہر ملاوٹ سے پاک اور خالص ہوتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
