غزل

چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں

چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
ولی دکنی· Ghazal· 5 shers· radif: में

یہ غزل عشق کی بے پناہ تڑپ اور وارفتگی کی عکاس ہے، جس میں عاشق محبوب کی گلی تک پہنچنے کے لیے خود کو بانسری کی صدا میں پنہاں کر لیتا ہے۔ شاعر اپنی جسمانی ناتوانی کے باوجود اپنے درد، آہوں اور موسیقی کے سوز سے اپنے جذبۂ شوق کا پُرتاثیر اظہار کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
छुपा हूँ मैं सदा-ए-बाँसुली में कि ता जाऊँ परी-रू की गली में
چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں کہ تا جاؤں پری رو کی گلی میں
میں بانسری کی آواز میں چھپا ہوا ہوں تاکہ اپنے پری جیسے چہرے والے محبوب کی گلی میں پہنچ سکوں۔
2
न थी ताक़त मुझे आने की लेकिन ब-ज़ोर-ए-आह पहुँचा तुझ गली में
نہ تھی طاقت مجھے آنے کی لیکن بزور آہ پہنچا تجھ گلی میں
مجھ میں یہاں آنے کی سکت اور طاقت نہیں تھی، لیکن میں اپنی آہوں کے زور پر تیری گلی تک پہنچ گیا۔
3
अयाँ है रंग की शोख़ी सूँ ऐ शोख़ बदन तेरा क़बा-ए-संदली में
عیاں ہے رنگ کی شوخی سوں اے شوخ بدن تیرا قبائے صندلی میں
اے شوخ، تیرے رنگ کی شوخی اور نکھار کے باعث صندلی رنگ کے لباس میں بھی تیرا بدن صاف عیاں ہے۔
4
जो है तेरे दहन में रंग ओ ख़ूबी कहाँ ये रंग ये ख़ूबी कली में
جو ہے تیرے دہن میں رنگ و خوبی کہاں یہ رنگ یہ خوبی کلی میں
جو رنگ اور خوبصورتی تمہارے دہن (ہونٹوں) میں ہے، وہ رنگ اور خوبی بھلا کسی کلی میں کہاں مل سکتی ہے۔
5
किया जियूँ लफ़्ज़ में मअ'नी सिरीजन मक़ाम अपना दिल-ओ-जान-ए-'वली' में
کیا جیوں لفظ میں معنی سریجن مقام اپنا دل و جان ولیؔ میں
اے محبوب! جس طرح لفظ کے اندر معنی سمائے ہوتے ہیں، اسی طرح تم نے ولیؔ کے دل اور جان میں اپنا ٹھکانا بنا لیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.