“Just as meaning is infused within the word, so have you made your abode in the heart and soul of Vali.”
اے محبوب! جس طرح لفظ کے اندر معنی سمائے ہوتے ہیں، اسی طرح تم نے ولیؔ کے دل اور جان میں اپنا ٹھکانا بنا لیا ہے۔
ولی دکنی نے اس شعر میں محبت اور یگانگت کا نہایت دلکش استعارہ پیش کیا ہے، جیسے کسی لفظ کے اندر اس کا معنی رچا بسا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح محبوب نے ولی کے دل و جان کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ لفظ اپنے معنی کے بغیر بے معنی شور ہے اور معنی لفظ کے بنا ظاہر نہیں ہو سکتا۔ یہ شعر اس گہرے ربط کو ظاہر کرتا ہے جہاں عاشق اور معشوق دو الگ وجود نہیں رہتے بلکہ روح اور سانس کی طرح ایک ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
