“Hidden am I within the flute's sweet melody, so that I may enter the lane of the fairy-faced beloved.”
میں بانسری کی آواز میں چھپا ہوا ہوں تاکہ اپنے پری جیسے چہرے والے محبوب کی گلی میں پہنچ سکوں۔
اس دلکش شعر میں عاشق اپنے محبوب کے کوچے تک رسائی کا ایک نہایت نازک اور انوکھا راستہ اختیار کرتا ہے۔ دنیا کی بندشیں اور پہرے اسے وہاں جانے سے روکتے ہیں، اس لیے وہ اپنے احساس اور وجود کو بانسری کی مدھر صدا میں چھپا دیتا ہے۔ موسیقی کو کوئی دیوار نہیں روک سکتی، چنانچہ وہ سر بن کر اپنے پری چہرہ محبوب کی گلی میں بے روک ٹوک داخل ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
