غزل

آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ

آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ
ولی دکنی· Ghazal· 5 shers· radif: कुछ का कुछ

یہ غزل محبوب کی شوخ اور چنچل اداؤں کے باعث عاشق کے دل پر طاری ہونے والی بے چینی اور انوکھی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ محبوب کے دلفریب انداز عاشق کے بے قرار دل کو مسحور کر دیتے ہیں، جس سے اس کے دل و دماغ پر حیرت اور سرشاری کا عالم چھا جاتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आज दिस्ता है हाल कुछ का कुछ क्यूँ न गुज़रे ख़याल कुछ का कुछ
آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ کیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھ
آج حالات بالکل بدلے ہوئے اور عجیب دکھائی دے رہے ہیں، تو پھر دل و دماغ میں طرح طرح کے عجیب خیالات کیوں نہ آئیں۔
2
दिल-ए-बे-दिल कूँ आज करती है शोख़ चंचल की चाल कुछ का कुछ
دل بے دل کوں آج کرتی ہے شوخ چنچل کی چال کچھ کا کچھ
آج اس شوخ اور چنچل محبوب کے چلنے کا انداز اس اداس دل کی حالت بدل کر کچھ کی کچھ کیے دے رہا ہے۔
3
मुजको लगता है ऐ परी-पैकर आज तेरा जमाल कुछ का कुछ
مجکو لگتا ہے اے پری پیکر آج تیرا جمال کچھ کا کچھ
اے پری جیسے حسن والے محبوب، مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج تمہارا حسن کچھ بدلا ہوا اور بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔
4
असर-ए-बादा-ए-जवानी है कर गया हूँ सवाल कुछ का कुछ
اثر بادۂ جوانی ہے کر گیا ہوں سوال کچھ کا کچھ
یہ جوانی کے نشے کا اثر ہے کہ میں پوچھنا کچھ اور چاہتا تھا مگر کچھ کا کچھ غلط سوال کر بیٹھا ہوں۔
5
ऐ 'वली' दिल कूँ आज करती है बू-ए-बाग़-ए-विसाल कुछ का कुछ
اے ولیؔ دل کوں آج کرتی ہے بوئے باغ وصال کچھ کا کچھ
اے ولی! آج وصل کے باغ کی خوشبو دل کو کچھ کا کچھ (بے حال و متغیر) کیے جا رہی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.