“O Wali, today the fragrance of the garden of union stirs the heart and changes it into something wondrous and strange.”
اے ولی! آج وصل کے باغ کی خوشبو دل کو کچھ کا کچھ (بے حال و متغیر) کیے جا رہی ہے۔
ولیؔ دکنی اس شعر میں محبوب سے ملن کی اس نشہ آور خوشبو کا ذکر کر رہے ہیں جو دل کی دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ انہوں نے وصال کو ایک مہکتے باغ سے تشبیہ دی ہے، جس کی تازہ ہوا روح کو مسحور اور بے خود کر دیتی ہے۔ محبوب کے قرب کی محض امید ہی عاشق کے دل پر ایسی سحر انگیز کیفیت طاری کر دیتی ہے کہ جذبات سنبھالے نہیں سنبھلتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
