“Such is the intoxication of youth's heady wine— I ended up asking something completely amiss.”
یہ جوانی کے نشے کا اثر ہے کہ میں پوچھنا کچھ اور چاہتا تھا مگر کچھ کا کچھ غلط سوال کر بیٹھا ہوں۔
شاعر نے جوانی کے امنگ اور جوش کو ایک سرور بخش شراب سے تشبیہ دی ہے، جو انسان سے اس کے ہوش و حواس چھین لیتی ہے۔ محبوب کے سامنے ارادہ تو کچھ اور کہنے کا تھا، مگر اس خمار اور اضطراب میں زباں بہک گئی اور شاعر کچھ کا کچھ پوچھ بیٹھا۔ یہ شعر جوانی کی نادان بے باکی، محبت کی گھبراہٹ اور دل کی پرلطف بے خودی کی بڑی پیاری تصویر کشی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
