“To me it seems, O angel-bodied grace, today your beauty shines transformed, an altered face.”
اے پری جیسے حسن والے محبوب، مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج تمہارا حسن کچھ بدلا ہوا اور بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔
شاعر اپنے محبوب کو ’پری پیکر‘ کہہ کر پکارتا ہے، جس کا سراپا کسی پری کی طرح دلکش اور لطیف ہے۔ وہ والہانہ انداز میں کہتا ہے کہ آج محبوب کے چہرے کا نکھار معمول سے ہٹ کر کسی انوکھی ہی شان سے دمک رہا ہے۔ ’کچھ کا کچھ‘ کا اشارہ دراصل اُس مسحور کن اور پُراسرار جلوے کی طرف ہے جو محبت، حیا یا کسی دلی کیفیت کے سبب محبوب کے حسن کو پہلے سے بھی زیادہ بےمثال بنا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
