Sukhan AI
غزل

کمال کرتی ہے، ایک بڑھیا اپنے بوڑھے سے اب تک محبت کرتی ہے۔

کمال کرتی ہے، ایک بڑھیا اپنے بوڑھے سے اب تک محبت کرتی ہے۔
سریش دلال· Ghazal· 13 shers

یہ غزل ایک بزرگ خاتون کی اپنے شوہر کے تئیں حیرت انگیز اور لازوال محبت کو پیش کرتی ہے، جہاں وہ روزمرہ کے کاموں میں ان کا گہرا خیال رکھتی ہیں، جیسے عینک دینا اور برش پر پیسٹ لگانا۔ لوگوں کے یہ کہنے کے باوجود کہ وہ انہیں بگاڑ رہی ہیں، وہ انہیں گرم چائے اور ناشتہ پیش کرکے ان کی خدمت کرتی رہتی ہیں، جو بڑھاپے میں ایک خوبصورت، بے لوث رشتے کو نمایاں کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કમાલ કરે છે એક ડોસી ડોસાને હજી વ્હાલ કરે છે.
یہ کمال ہے کہ ایک بوڑھی عورت اب بھی اپنے بوڑھے شوہر سے محبت کرتی ہے۔
2
ડોસો જાગે ત્યારે ચશ્માં આપે અને બ્રશ ઉપર પેસ્ટને લગાડે,
جب بوڑھا آدمی جاگتا ہے تو وہ چشمہ لیتا ہے اور برش پر پیسٹ لگاتا ہے۔
3
લોકોનું કહેવું છે કે ડોસી આમ કરી ડોસાને શાને બગાડે ?
لوگ پوچھتے ہیں، 'یہ بوڑھی عورت ایسا کرکے بوڑھے آدمی کو کیوں بگاڑتی ہے؟'
4
મસાલા ચા અને ગરમ ગરમ નાસ્તો ડોસી ડોસાનો કેવો ખ્યાલ કરે છે?
یہ دوہا ایک بوڑھی بیوی کی اپنے بوڑھے شوہر کے لیے محبت بھری دیکھ بھال کو بیان کرتا ہے، اسے مسالہ چائے اور گرما گرم ناشتہ پیش کرتے ہوئے۔
5
નિયમ પ્રમાણે દવા આપેછે રોજ અને રાખે છે ઝીણું ઝીણું ધ્યાન,
روزانہ ضابطہ کے مطابق دوا دیتے ہیں اور بہت باریک بینی سے دھیان رکھتے ہیں۔
6
બન્નેનો સંબંધ તો એવો રહ્યો છે જાણે તલવાર અને મ્યાન.
ان دونوں کا رشتہ ہمیشہ سے ایسا رہا ہے، جیسے تلوار اور میان کا ہوتا ہے۔
7
દરમ્યાનમાં બન્ને જણ મૂંગાં મૂંગાં એકમેકને એવાં તો ન્યાલ કરે છે..
درمیان میں دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، گویا ایک دوسرے کی موجودگی کو گہرائی سے سراہ رہے ہوں۔
8
કાનમાં આપે એવાં ઈન્જેકશન કે સિગરેટ શરાબ હવે છોડો,
وہ کان میں ایسے 'انجیکشن' دیتے ہیں کہ اب سگریٹ اور شراب چھوڑ دینی چاہیے۔
9
ડોસો તો પોતાના તાનમાં જીવે કયારેક વહેલો આવે કે ક્યારેક મોડો.
بڑھا اپنی ہی دھن میں جیتا ہے، کبھی جلدی آتا ہے تو کبھی دیر سے۔
10
બન્નેની વચ્ચે વહે આછું સંગીત પણ બહારથી ધાંધલધમાલ કરે છે.
دونوں کے درمیان ایک مدھم موسیقی بہتی ہے، مگر باہر سے یہ شور و غل کرتا ہے۔
11
ડોસો વાંચે અને ડોસીને મોતિયો બન્ને જણ વચ્ચે આવો છે પ્રેમ,
بوڑھا آدمی پڑھتا ہے اور بوڑھی عورت کو موتیا ہے؛ دونوں کے درمیان ایسا پیار ہے۔
12
લડે છે,ઝગડે છે,હસે છે, રડે છે, જીવન તો જળની જેમ વહેતું જાય એમ.
لوگ لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، ہنستے ہیں اور روتے ہیں، لیکن زندگی تو پانی کی طرح بس بہتی ہی چلی جاتی ہے۔
13
દોસ્ત જેવી દીકરીની હાજરીમાં બન્ને જણ ઘરની દિવાલને ગુલાલ કરે છે.
دوست جیسی بیٹی کی موجودگی میں، دونوں گھر کی دیوار پر گلال لگاتے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.