غزل

ذکر ہر صبح و شام ہے تیرا

ذکر ہر صبح و شام ہے تیرا
شاکر ناجی· Ghazal· 5 shers· radif: है तेरा

یہ غزل محبوب کی ہمہ وقتی یاد، دائمی ذکر اور عاشق کے مکمل جذبۂ تسلیم و رضا کی عکاسی کرتی ہے۔ عاشق اپنے محبوب کے نام کو ہی اپنا ورد بنا چکا ہے اور اس کی زلفوں کی اسیری و غلامی میں خوشی سے قید رہنا چاہتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ज़िक्र हर सुब्ह ओ शाम है तेरा विर्द-ए-आशिक़ कूँ नाम है तेरा
ذکر ہر صبح و شام ہے تیرا ورد عاشق کوں نام ہے تیرا
ہر صبح و شام تمہارا ہی چرچا رہتا ہے، اور عاشق کے لیے تمہارا نام ہی ہر وقت کا وظیفہ بن گیا ہے۔
2
मत कर आज़ाद दाम-ए-ज़ुल्फ़ सीं दिल बाल-बाँधा ग़ुलाम है तेरा
مت کر آزاد دام زلف سیں دل بال باندھا غلام ہے تیرا
میرے دل کو اپنی زلفوں کے جال سے آزاد مت کرو، کیونکہ یہ ایک بال سے بندھا ہوا تمہارا مطیع غلام ہے۔
3
लश्कर-ए-ग़म ने दिल सीं कूच किया जब से इस में मक़ाम है तेरा
لشکر غم نے دل سیں کوچ کیا جب سے اس میں مقام ہے تیرا
جب سے تم نے میرے دل میں اپنا بسیرا بنایا ہے، غموں کے لشکر نے یہاں سے کوچ کر دیا ہے۔
4
जाम-ए-मय का पिलाना है बे-रंग शौक़ जिन कूँ मुदाम है तेरा
جام مے کا پلانا ہے بے رنگ شوق جن کوں مدام ہے تیرا
شراب کا جام پلانا ان لوگوں کے لیے بالکل بے معنی اور بے مزہ ہے، جنہیں ہر وقت ہمیشہ آپ ہی کا شوق اور لگن رہتی ہے۔
5
आज 'नाजी' से रम न कर ऐ शोख़ देख मुद्दत सीं राम है तेरा
آج ناجیؔ سے رم نہ کر اے شوخ دیکھ مدت سیں رام ہے تیرا
اے شوخ محبوب! آج ناجی سے بھاگ مت اور مت کترا، دیکھ کہ وہ ایک طویل عرصے سے تیرا مطیع اور رام ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.