مت کر آزاد دام زلف سیں دل بال باندھا غلام ہے تیرا

“Release not my heart from the snare of your tresses; bound fast by a strand of hair, it remains your devoted slave.”

— شاکر ناجی
معنی

میرے دل کو اپنی زلفوں کے جال سے آزاد مت کرو، کیونکہ یہ ایک بال سے بندھا ہوا تمہارا مطیع غلام ہے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے التجا کرتا ہے کہ اس کے دل کو اپنی زلفوں کے فریب کار جال سے کبھی رہا نہ کرے۔ دنیا میں لوگ آزادی ڈھونڈتے ہیں، لیکن محبت کا رنگ نرالا ہے جہاں محبوب کی زلفوں کی قید ہی سب سے بڑی راحت بن جاتی ہے۔ 'بال باندھا غلام' کی پیاری ترکیب سے شاعر یہ بتاتا ہے کہ اس کا دل بصد شوق خود کو محبوب کی وفا میں ہمیشہ کے لیے سونپ چکا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.