غزل

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں
شاکر ناجی· Ghazal· 5 shers

یہ غزل محبوب کی خمار آلود اور متوالی آنکھوں کے دیدار کی دائمی حسرت اور ہجر کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ ایک طویل دور بیت جانے کے باوجود وصال سے محرومی اور محبوب کی نازک بے نیازی اس کا خاص موضوع ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ये दौर गुज़रा कभी न देखीं पिया की अँखियाँ ख़ुमार-मतियाँ कहे थे मरदुम शराबी उन कूँ निकल गईं अपनी दे ग़लतियाँ
یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں
شراب کا یہ دور گزر گیا مگر محبوب کی خمار آلود آنکھیں دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ لوگ ان آنکھوں کو شرابی کہتے تھے، لیکن یہ ہماری اپنی ہی غلط فہمی ثابت ہوئی۔
2
सिवाए गुल के वो शोख़ अँखियाँ किसी तरफ़ को नहीं हैं राग़िब तो बर्ग-ए-नर्गिस उपर बजा है लिखूँ जो अपने सजन कूँ पतियाँ
سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب تو برگ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں
محبوب کی وہ شوخ آنکھیں پھول کے علاوہ کسی طرف متوجہ نہیں ہوتیں، اس لیے یہ بالکل درست ہے کہ میں اپنے محبوب کو نرگس کی پتیوں پر خط لکھوں۔
3
सनम की ज़ुल्फ़ाँ को हिज्र में अब गए हैं मुझ नैन हैं ख़्वाब राहत लगे है काँटा नज़र में सोना कटेंगी कैसे ये काली रतियाँ
صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت لگے ہے کانٹا نظر میں سونا کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں
محبوب کی زلفوں کی جدائی میں میری آنکھوں سے چین کی نیند چلی گئی ہے اور سونا نظر میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے، اب یہ کالی راتیں کیسے گزریں گی؟
4
जो शम्अ-रू के दो लब हैं शीरीं तो सब्ज़ा-ए-ख़त बजा है उस पर ज़मीन पकड़ी है तूतियों ने सुनीं जो मीठी पिया की बतियाँ
جو شمع رو کے دو لب ہیں شیریں تو سبزۂ خط بجا ہے اس پر زمین پکڑی ہے طوطیوں نے سنیں جو میٹھی پیا کی بتیاں
اگر شمع جیسے روشن چہرے والے محبوب کے لب اتنے میٹھے ہیں تو ان پر خط کے سبزے کا ہونا بالکل بجا ہے؛ محبوب کی میٹھی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ طوطوں نے اس جگہ اپنا مسکن بنا لیا ہے۔
5
ख़याल कर कर भटक रहा हूँ नज़र जो आए तेवर हैं बाँके बनाओ बनता नहीं है 'नाजी' जो उस सजन को लगाऊँ छतियाँ
خیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکے بناؤ بنتا نہیں ہے ناجیؔ جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں
میں سوچ سوچ کر بھٹک رہا ہوں اور جب وہ نظر آتے ہیں تو ان کے تیور بانکے اور ترچھے ہوتے ہیں؛ اے ناجی، کوئی ایسی تدبیر نہیں بن پڑتی کہ میں اس محبوب کو اپنے سینے سے لگا سکوں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.