“Save for the rose, those playful eyes to nothing else incline; 'Tis fitting then, on narcissus leaves, to pen these letters of mine.”
محبوب کی وہ شوخ آنکھیں پھول کے علاوہ کسی طرف متوجہ نہیں ہوتیں، اس لیے یہ بالکل درست ہے کہ میں اپنے محبوب کو نرگس کی پتیوں پر خط لکھوں۔
شاعر یہاں اپنے محبوب کی شوخ اور بے پروا آنکھوں کی نزاکت بیان کر رہا ہے، جو پھولوں کے سوا کسی شے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتیں۔ چونکہ روایتی شاعری میں نرگس کو ہمیشہ حسین آنکھ کا استعارہ مانا گیا ہے، اس لیے عاشق کہتا ہے کہ وہ اپنے دل کا پیغام نرگس ہی کی پتیوں پر لکھ کر بھیجے گا۔ یہ محبوب کی توجہ پانے کی کیسی دلکش تدبیر ہے کہ خط بھی اسی پھول پر لکھا جا رہا ہے جس سے ان کی نگاہوں کو خاص لگاؤ ہے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
