“Far from my beloved's dark tresses, restful sleep has fled my sight; slumber pricks my eyes like a thorn—how will I pass these pitch-black nights?”
محبوب کی زلفوں کی جدائی میں میری آنکھوں سے چین کی نیند چلی گئی ہے اور سونا نظر میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے، اب یہ کالی راتیں کیسے گزریں گی؟
اس شعر میں ہجر کی بے چینی اور شبِ فراق کی تنہائی کا دکھ کمال سادگی اور خوبصورتی سے بیان ہوا ہے۔ محبوب کی گھنیری زلفوں کی دوری نے راتوں کو اور بھی تاریک اور بھیانک بنا دیا ہے، جس سے آنکھوں کا سارا چین لٹ چکا ہے۔ اب سونا بھی پلکوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے، اور عاشق اس تڑپ میں مبتلا ہے کہ وصل کے بغیر یہ کالی اور لمبی راتیں آخر کیسے کٹیں گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
