خیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکے بناؤ بنتا نہیں ہے ناجیؔ جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں

“I wander lost in endless thought, met only by their haughty charms; / No contrivance works, O Naji, to clasp that lover in my arms.”

— شاکر ناجی
معنی

میں سوچ سوچ کر بھٹک رہا ہوں اور جب وہ نظر آتے ہیں تو ان کے تیور بانکے اور ترچھے ہوتے ہیں؛ اے ناجی، کوئی ایسی تدبیر نہیں بن پڑتی کہ میں اس محبوب کو اپنے سینے سے لگا سکوں۔

تشریح

اس شعر میں عاشق کی بے قراری اور محبوب کے بانکپن کا بڑا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔ شاعر دن رات محبوب کی یادوں میں سرگرداں رہتا ہے، مگر جب وہ نظر آتا ہے تو اس کے شوخ اور تیکھے تیور دل کو مرعوب کر دیتے ہیں۔ شاکر ناجی اپنی بے بسی پر مسکرا کر کہتے ہیں کہ کوئی تدبیر یا بہانہ کارگر نہیں ہوتا کہ اس پیارے محبوب کو سینے سے لگا کر دل کی پیاس بجھائی جا سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.