“If the candle-faced beloved's lips are sweet, fitting is the green down that blooms above; Parrots have surely flocked to this ground, drawn by the honeyed words of my love.”
اگر شمع جیسے روشن چہرے والے محبوب کے لب اتنے میٹھے ہیں تو ان پر خط کے سبزے کا ہونا بالکل بجا ہے؛ محبوب کی میٹھی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ طوطوں نے اس جگہ اپنا مسکن بنا لیا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے روایتی تشبیہ ’سبزۂ خط‘ یعنی ہونٹوں کے گرد نوخیزی کے ہلکے سبز روئیں کو بڑی نفاست سے برتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب روشن چہرے والے محبوب کے ہونٹ شکر کی طرح شیریں ہیں، تو ان پر ابھرنے والا سبزہ دراصل ان سبز طوطوں کی مانند ہے جو محبوب کی میٹھی باتیں سن کر وہیں ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔ یہ محبوب کے کلام کی دلکشی اور اس کے حسن کی بے ساختہ اور شوخ تعریف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
