غزل

مہ رخاں کی جو مہربانی ہے

مہ رخاں کی جو مہربانی ہے
شاکر ناجی· Ghazal· 6 shers· radif: है

اس غزل میں شاعر نے محبوب کے بے مثال حسن اور اس کی عنایت و کرم کو موضوع بنایا ہے۔ وہ چاند جیسے چہرے والے محبوب کی مہربانی کو آسمانی مدد قرار دیتا ہے اور اس کے رشکِ قمر چہرے کے سامنے آئینے کی کیفیت کو پرتاثیر انداز میں بیان کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
मह-रुख़ाँ की जो मेहरबानी है ये मदद मुझ पे आसमानी है
مہ رخاں کی جو مہربانی ہے یہ مدد مجھ پہ آسمانی ہے
چاند جیسے حسین چہروں والوں کی جو مجھ پر مہربانی ہے، وہ میرے لیے دراصل ایک غیبی اور آسمانی مدد ہے۔
2
रश्क सीं उस के साफ़ चेहरे के चश्म पर आइने की पानी है
رشک سیں اس کے صاف چہرہ کے چشم پر آئنہ کی پانی ہے
محبوب کے صاف چہرے کے رشک کی وجہ سے آئینے کی آنکھ میں پانی بھر آیا ہے۔
3
दाम में बुल-हवस के आया नईं क्यूँ कि ये बाज़ आश्यानी है
دام میں بو الہوس کے آیا نئیں کیوں کہ یہ باز آشیانی ہے
یہ باز کسی لالچی کے جال میں نہیں پھنسا، کیوں کہ یہ اپنے گھونسلے سے وابستہ اور وفادار ہے۔
4
चर्ब है शम्अ पर जमाल उस का शम्अ की रौशनी ज़बानी है
چرب ہے شمع پر جمال اس کا شمع کی روشنی زبانی ہے
اس کا حسن شمع پر غالب اور برتر ہے، جبکہ شمع کی روشنی محض زبانی دعوے کی حد تک ہے۔
5
उस के रुख़्सार देख जीता हूँ आरज़ी मेरी ज़िंदगानी है
اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں عارضی میری زندگانی ہے
میں اس کے رخسار دیکھ کر جیتا ہوں؛ میری زندگی عارضی (ناپائیدار یا رخسار سے وابستہ) ہے۔
6
सिर्फ़ सूरत का बंद नईं 'नाजी' आशिक़-ए-साहब-ए-मआनी है
صرف صورت کا بند نئیں ناجیؔ عاشق صاحب معانی ہے
ناجی صرف ظاہری صورت اور حسن کا قیدی نہیں ہے، بلکہ وہ باطنی معنی اور حقیقت رکھنے والے کا عاشق ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.