“Her radiant beauty far outshines the candle's glow; the flame's bright boast is merely of the tongue.”
اس کا حسن شمع پر غالب اور برتر ہے، جبکہ شمع کی روشنی محض زبانی دعوے کی حد تک ہے۔
اس شعر میں شاعر نے کمال کی رعایتِ لفظی برتی ہے، کیونکہ شمع چربی سے بنتی تھی اور اس کے شعلے کو روایتی طور پر 'زبانِ شمع' کہا جاتا ہے۔ شاعر محبوب کے حسن کو شمع پر 'چرب' یعنی غالب بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ شمع کا روشن ہونا محض ایک زبانی دعویٰ ہے۔ محبوب کے بے پناہ اور حقیقی نور کے سامنے شمع کی تابناکی بالکل بے بس اور پھیکی نظر آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
