غزل

دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میں

دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میں
شاکر ناجی· Ghazal· 5 shers· radif: मय-कदे में

یہ غزل مے خانے کی پُرجوش اور پُرنشاط فضا کی عکاسی کرتی ہے، جہاں محبوب کی دلفریب ہنسی اور جلوہ گری سے بہار کا سماں بندھ جاتا ہے۔ شاعر عشق اور شراب کے جوش میں دل کے داغوں کو رقصاں موروں سے تشبیہ دے کر قلبی سرور اور والہانہ سرمستی کا دلکش نقشہ کھینچتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
देखी बहार हम ने कल ज़ोर मय-कदे में हँसने सीं उस सजन के था शोर मय-कदे में
دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میں ہنسنے سیں اوس سجن کے تھا شور مے کدے میں
کل ہم نے مے کدے میں خوب بہار دیکھی، کیونکہ اس محبوب کے ہنسنے سے پورے مے کدے میں دھوم مچی ہوئی تھی۔
2
थे जोश-ए-मुल सीं ऐसी शोरिश में दाग़ दिल के गोया कि कूदते हैं ये मोर मय-कदे में
تھے جوش مل سیں ایسی شورش میں داغ دل کے گویا کہ کودتے ہیں یہ مور مے کدے میں
شراب کے جوش اور نشے سے دل کے داغ ایسی بے چینی اور ہلچل میں مبتلا تھے، جیسے میخانے کے اندر مور ناچ اور کود رہے ہوں۔
3
फंदा रखा था मैं ने शायद कि वो परी-रू देखे तो पास मेरे हो दौर मय-कदे में
پھندا رکھا تھا میں نے شاید کہ وہ پری رو دیکھے تو پاس میرے ہو دور مے کدے میں
میں نے ایک جال بچھایا تھا تاکہ شاید وہ پری چہرہ محبوب اسے دیکھے اور مے خانے میں شراب کے دور کے دوران میرے پاس آ جائے۔
4
है आरज़ू कि हमदम वो माह-रू हो मेरा दे शाम सीं जो प्याला हो भोर मय-कदे में
ہے آرزو کہ ہم دم وہ ماہ رو ہو میرا دے شام سیں جو پیالہ ہو بھور مے کدے میں
میری یہ خواہش ہے کہ وہ چاند جیسے چہرے والا محبوب میرا ساتھی بنے، جو شام سے شراب کا پیالہ تھمائے اور مے خانے میں صبح ہو جائے۔
5
साक़ी वही है मेरा 'नाजी' कि गर मरूँ मैं मुझ वास्ते बना दे जा गोर मय-कदे में
ساقی وہی ہے میرا ناجیؔ کہ گر مروں میں مجھ واسطے بنا دے جا گور مے کدے میں
اے ناجی، میرا ساقی وہی ہے جو اگر میں مر جاؤں تو میخانے ہی میں میری قبر کی جگہ بنا دے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.