“He alone is my true cupbearer, O Naji, who if I die, will make my resting grave right within the tavern.”
اے ناجی، میرا ساقی وہی ہے جو اگر میں مر جاؤں تو میخانے ہی میں میری قبر کی جگہ بنا دے۔
ناجیؔ اس شعر میں مے اور مے کدے سے اپنے والہانہ تعلق کا اظہار بڑے پیارے انداز میں کر رہے ہیں، جہاں موت بھی اس سرور کو چھین نہیں سکتی۔ وہ فرماتے ہیں کہ سچا ساقی وہی ہے جو میری روح کی پیاس سمجھے اور مرنے کے بعد مجھے کسی ویران قبرستان کے بجائے مے کدے ہی کی پناہ میں دفن کرے۔ صوفیانہ اور عشقیہ شاعری میں مے کدہ منافقت سے پاک سچی محبت کا مسکن ہے، اس لیے عاشق ابد تک اسی کیف اور نشاط کے سائے میں سونا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
