“Stirred to such frenzy by wine's heady surge were the scars upon my heart, as though peacocks were leaping in dance within the tavern.”
شراب کے جوش اور نشے سے دل کے داغ ایسی بے چینی اور ہلچل میں مبتلا تھے، جیسے میخانے کے اندر مور ناچ اور کود رہے ہوں۔
شاعر نے اس شعر میں دل کے داغوں کو مور کے رنگین پروں اور ان کے دیوانہ وار رقص سے تشبیہ دے کر ایک خوبصورت منظر کھینچا ہے۔ شراب کے خمار نے دل کے پرانے زخموں میں ایسی ہلچل پیدا کر دی ہے گویا مے خانے کی فضا میں مور بے خود ہو کر کود اور ناچ رہے ہوں۔ یہ کیفیت بتاتی ہے کہ نشۂ عشق و مے میں انسان کا درد بھی فریاد کرنے کے بجائے ایک پرجوش اور وجدانی رقص کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
