“I had laid a snare in hope that fairy-faced beauty might see, and the tavern's circling wine-cup turn its round toward me.”
میں نے ایک جال بچھایا تھا تاکہ شاید وہ پری چہرہ محبوب اسے دیکھے اور مے خانے میں شراب کے دور کے دوران میرے پاس آ جائے۔
شاعر نے میکدے کی فضا میں اپنی تڑپ کا ایک بڑا دلکش نقشہ کھینچا ہے، جہاں اس نے اس پری چہرہ محبوب یا ساقی کی توجہ پانے کے لیے ایک علامتی پھندا بچھا رکھا تھا۔ اس کی ساری حسرت یہ ہے کہ محبوب کی نظر التفات اس پر ٹھہرے اور شراب کا چلتا ہوا دور اس کی سمت بھی مڑ جائے۔ یہ شعر عشق کی اس معصومانہ بے قراری کو ظاہر کرتا ہے جس میں عاشق محبوب کی ایک نظر پانے کے لیے ہر حیلہ آزما لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
