غزل
چادر سے موج کی نہ چھپے چہرہ آب کا
چادر سے موج کی نہ چھپے چہرہ آب کا
یہ غزل صوفیانہ اور فلسفیانہ مضامین کی حامل ہے جس میں حقیقتِ مطلق اور وہم و گمان کے پردوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر کے نزدیک حق کا چہرہ کسی ظاہری پردے میں چھپا نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے اپنے اوہام کا تصرف ہے جو حق اور بندے کے درمیان حجاب بن جاتا ہے۔
Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
چادر سے موج کی نہ چھپے چہرہ آب کا
برقع حجاب کا نہ ہو برقع حباب کا
پانی کا چہرہ لہر کی چادر سے نہیں چھپ سکتا اور نہ ہی بلبلہ ایسا پردہ بن سکتا ہے جو پانی کو چھپا سکے۔
2
اپنا ہی کچھ تصرّف اوہام ہے کہ ہم
چہرے پہ حق کے پاتے ہیں پردہ نقاب کا
یہ محض ہمارے اپنے وہم و گمان کا اثر ہے کہ ہمیں سچائی یعنی حق کے چہرے پر پردہ دکھائی دیتا ہے۔
3
آنکھیں مُندی ہوئی ہوں تو پھر دن بھی رات ہے
اس میں قصور کیا ہے بھلا آفتاب کا
اگر آنکھیں ہی بند ہوں تو دن بھی رات جیسا معلوم ہوتا ہے، اس میں بھلا سورج کا کیا قصور ہے۔
4
کس کام کی یہ ہستیِ موہوم کائنات
سیراب کب کرے تجھے دھوکا سراب کا؟
یہ خیالی اور وہمی دنیا کس کام کی ہے، بھلا سراب کا فریب کبھی کسی کی پیاس بجھا سکتا ہے؟
5
اپنا حجاب آپ ہے، تو اے میاں نیازؔ
اُٹھنے میں تیرے ہوتا ہے، اُٹھنا حجاب کا
اے میاں نیاز، تو خود ہی اپنا پردہ ہے؛ تیرے ہٹنے سے ہی اس پردے کا اٹھنا ہوتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
