کس کام کی یہ ہستیِ موہوم کائنات سیراب کب کرے تجھے دھوکا سراب کا؟

“Of what use is this phantom universe, this illusory existence? When has the deception of a mirage ever quenched your thirst?”

— شاہ نیاز احمد بریلوی
معنی

یہ خیالی اور وہمی دنیا کس کام کی ہے، بھلا سراب کا فریب کبھی کسی کی پیاس بجھا سکتا ہے؟

تشریح

شاعر اس شعر میں اس فانی کائنات کو صحرا کے سراب سے تشبیہ دے رہا ہے، جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں صرف ایک فریب ہے۔ جس طرح سراب کی چمک کسی پیاسے مسافر کی پیاس نہیں بجھا سکتی، بالکل اسی طرح اس عارضی اور موہوم دنیا کی آسائشیں انسان کی روح کو کبھی حقیقی تسکین نہیں پہنچا سکتیں۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک خواب جیسی ہستی سے دل لگا کر سچا اور دائمی سکون پانا ناممکن ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.