“Of what use is this phantom universe, this illusory existence? When has the deception of a mirage ever quenched your thirst?”
یہ خیالی اور وہمی دنیا کس کام کی ہے، بھلا سراب کا فریب کبھی کسی کی پیاس بجھا سکتا ہے؟
شاعر اس شعر میں اس فانی کائنات کو صحرا کے سراب سے تشبیہ دے رہا ہے، جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں صرف ایک فریب ہے۔ جس طرح سراب کی چمک کسی پیاسے مسافر کی پیاس نہیں بجھا سکتی، بالکل اسی طرح اس عارضی اور موہوم دنیا کی آسائشیں انسان کی روح کو کبھی حقیقی تسکین نہیں پہنچا سکتیں۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک خواب جیسی ہستی سے دل لگا کر سچا اور دائمی سکون پانا ناممکن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
