“You are your own veil, O master Niyaz; in the lifting of your self lies the lifting of the veil.”
اے میاں نیاز، تو خود ہی اپنا پردہ ہے؛ تیرے ہٹنے سے ہی اس پردے کا اٹھنا ہوتا ہے۔
اس خوبصورت صوفیانہ شعر میں نیازؔ بے تکلف انداز میں خود کو مخاطب کر کے ایک عمیق سچائی بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان کوئی خارجی رکاوٹ نہیں، بلکہ انسان کی اپنی انا اور ’میں‘ کا احساس ہی اصل پردہ ہے۔ یہاں ’اٹھنے‘ سے مراد خودی کا فنا ہونا ہے؛ جیسے ہی انسان اپنی ہستی کے التباس سے آزاد ہوتا ہے، حقیقت کا حجاب خودبخود ہٹ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
