“It is but the sway of our own illusions that we / Find cast upon the face of Truth the shadow of a veil.”
یہ محض ہمارے اپنے وہم و گمان کا اثر ہے کہ ہمیں سچائی یعنی حق کے چہرے پر پردہ دکھائی دیتا ہے۔
اس شعر میں تصوف اور معرفت کا ایک نازک نکتہ نہایت سادگی سے بیان کیا گیا ہے کہ حق یا خدا کبھی انسان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ ہم جو یہ گلہ کرتے ہیں کہ سچائی کے چہرے پر کوئی پراسرار نقاب پڑا ہے، دراصل وہ نقاب حقیقت کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے شکوک اور وہم و گمان کا پیدا کردہ ہے۔ حقیقت تو ہر لمحہ عیاں اور بے پردہ ہے، بس ہماری ناقص بصیرت ہی اس کے اور ہمارے درمیان حجاب بن کر کھڑی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
