آنکھیں مُندی ہوئی ہوں تو پھر دن بھی رات ہے اس میں قصور کیا ہے بھلا آفتاب کا

“If the eyes remain closed, even the day turns into night; what fault is it, after all, of the radiant sun?”

— شاہ نیاز احمد بریلوی
معنی

اگر آنکھیں ہی بند ہوں تو دن بھی رات جیسا معلوم ہوتا ہے، اس میں بھلا سورج کا کیا قصور ہے۔

تشریح

یہ شعر انسان کی کوتاہ بینی اور خود ساختہ اندھیروں کی بڑی دل نشین اور سادہ عکاسی کرتا ہے۔ سورج تو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کو روشن کر رہا ہے، مگر اگر انسان ضد، تعصب یا غفلت کی وجہ سے اپنی آنکھیں ہی بند کر لے تو پھر اس کے حصے میں اندھیرا ہی آئے گا۔ شاعر بڑے پیارے انداز میں بتاتے ہیں کہ روشنی، سچائی اور امید ہمیشہ موجود رہتی ہیں، مگر ان سے فیض پانے کے لیے دل اور نگاہ کے دریچے کھولنا خود انسان کی ذمے داری ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.