غزل

ایک ہی جلوۂ مہرو میں ہوا سو نگری

ایک ہی جلوۂ مہرو میں ہوا سو نگری
مومن خاں مومن· Ghazal· 5 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
एक ही जल्वा-ए-मह्रू में हुआ सौ नगरी जामा-ए-सब्र हिसी कहती हैं किस्तान होगा
ایک ہی جلوۂ مہرو میں ہوا سو نگری جامہ صبر حسی کہتی ہیں کستان ہوگا
اُس حسین چہرے کی ایک ہی جھلک میں سینکڑوں بستیاں بس گئیں؛ صبر کا جامہ تار تار ہو گیا اور کہتے ہیں کہ یہی تباہی کا سبب ہوگا۔
2
गर यही गर्मी-ए-मज़मून शरर-रेज़ रहे रिश्ता-ए-शमा सी शीराज़ा-ए-दीवान होगा
گر یہی گرمی مضمون شرر ریز رہے رشتۂ شمع سی شیرازۂ دیوان ہوگا
اگر میرے مضمون کی یہی گرمی اسی طرح چنگاریاں بکھیرتی رہی، تو میرے دیوان کی جلد بندی موم بتی کی جلتی ہوئی بتی کی مانند ہو جائے گی۔
3
क्योंकर उम्मीद-ए-वफ़ा सी हो तसल्ली दिल को फ़िक्र ही यह कि वो वादा सी पशेमान होगा
کیونکر امید وفا سی ہو تسلی دل کو فکر ہی یہہ کہ وہ وعدہ سی پشیمان ہوگا
دل کو وفا کی امید سے بھلا کیسے تسلی ہو، جب بس یہی فکر ہے کہ وہ اپنے وعدے سے پشیمان ہوگا۔
4
गर तेरी खंजर-ए-मिज़गान नी किया क़त्ल मुझी ग़ैर क्या क्या मलक-उल-मौत की क़ुर्बान होगा
گر تیری خنجر مژگان نی کیا قتل مجھی غیر کیا کیا ملک الموت کی قربان ہوگا
اگر تیری خنجر جیسی پلکوں نے مجھے پوری طرح قتل نہ کیا، تو پھر ملک الموت کا کیا کام اور وہ کس پر قربان ہوگا۔
5
अपनी अंदाज़ की भी एक ग़ज़ल पढ़ मोमिन आख़िर इस बज़्म में कोई तो सुख़न्दान होगा
اپنی انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومن آخر اس بزم میں کوئی تو سخندان ہوگا
اے مومن، اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھو؛ آخر اس محفل میں کوئی نہ کوئی تو سخن کو پہچاننے والا ہوگا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.