کیونکر امید وفا سی ہو تسلی دل کو — مومن خاں مومن
“How can the heart find solace in some hope of faithfulness, When this alone is my worry—that she will repent of her promise?”
معنی
دل کو وفا کی امید سے بھلا کیسے تسلی ہو، جب بس یہی فکر ہے کہ وہ اپنے وعدے سے پشیمان ہوگا۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کا دل عجیب بے چینی میں مبتلا ہے۔ وہ وفا کی امید سے بھی تسلی نہیں پا سکتا، کیونکہ اندر ایک خوف بیٹھا ہے کہ کہیں محبوب اپنے کیے ہوئے وعدے ہی سے پشیمان نہ ہو جائے۔ یہاں امید اور اندیشے کا وہ نازک توازن ہے جس میں عشق کا دل ہمیشہ جھولتا رہتا ہے، جہاں ہر خوشی کے ساتھ ایک دھڑکا بھی لگا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
