غزل
उम्र भर हम रहे शराबी से
उम्र भर हम रहे शराबी से
یہ غزل زندگی بھر نشے میں رہنے اور دل کے گہرے زخموں کو گلابی رنگ سے بھرنے کے تجربے کو پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ صبح سے آہ بھرنا اور رات کو کسی خرابی سے گزارنا کتنا مشکل ہے۔ اس میں محبوب کی آنکھوں کی نیند اور اس کا پردہ اٹھنے پر چاند نکلنے کے احساس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
उम्र भर हम रहे शराबी से
दिल-ए-पुर-ख़ूँ की इक गुलाबी से
عمر بھر ہم رہے شرابی سے، دلِ پر خون کی اک گلابی سے۔
2
जी ढहा जाए है सहर से आह
रात गुज़रेगी किस ख़राबी से
شایر پوچھ رہا ہے کہ صبح کی کرنیں رات کے درد سے کیسے نکلیں گی، اور یہ رات کس طرح گہری مایوسی سے گزرے گی۔
3
खिलना कम कम कली ने सीखा है
उस की आँखों की नीम-ख़्वाबी से
کلی نے کھلنا کم کم کرنا سیکھا ہے، اُس کی آنکھوں کی نیم-ख़्वाबी سے।
4
बुर्क़ा उठते ही चाँद सा निकला
दाग़ हूँ उस की बे-हिजाबी से
جیسے ہی برقعہ ہٹا، وہ چاند کی طرح چمک اٹھی، مگر یہ داغ اس کی بے حجابی کی خوبصورتی سے ہے۔
5
काम थे इश्क़ में बहुत पर 'मीर'
हम ही फ़ारिग़ हुए शिताबी से
یعنی، میں عشق میں بہت مگن تھا، مگر 'میر' کہہ رہا ہے کہ میں زندگی کے جوش و خروش سے خالی ہو گیا ہوں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
