जी ढहा जाए है सहर से आह
रात गुज़रेगी किस ख़राबी से
“How will the morning break from the night's sighing pain, How will the night pass through such a deep despairing strain?”
— میر تقی میر
معنی
شایر پوچھ رہا ہے کہ صبح کی کرنیں رات کے درد سے کیسے نکلیں گی، اور یہ رات کس طرح گہری مایوسی سے گزرے گی۔
تشریح
یہ شعر انتظار کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ سحر بھی ایک آہ کے ساتھ ڈھہ رہی ہے۔ وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ رات کس مصیبت سے گزرے گی؟ یہ صرف وقت کا گزرنا نہیں، بلکہ ایک شدید جذباتی اذیت ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
