غزل
तलवार ग़र्क़-ए-ख़ूँ है आँखें गुलाबियाँ हैं
तलवार ग़र्क़-ए-ख़ूँ है आँखें गुलाबियाँ हैं
یہ غزل محبت کے شدید اور پیچیدہ جذبات کا احاطہ کرتی ہے، جہاں شاعر اپنی گلابی آنکھوں کی نرمی کے برعکس، ایک 'خونیل تلوار' جیسی شدت محسوس کرتا ہے۔ یہ محبت میں چھپی تضادات، بے باک اداؤں، اور دل کی بے چینی کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک وہ چہرہ ڈھانپ کر ہے، اس کی 'شرارतें' اور 'آزادی' برقرار ہیں، اور محبوب کے بغیر زندگی میں کتنا کچھ 'خراب' ہو جائے گا۔
نغمہ سنیں
1
तलवार ग़र्क़-ए-ख़ूँ है आँखें गुलाबियाँ हैं
देखें तो तेरी कब तक ये बद-शराबियाँ हैं
تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیں
دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں
میری آنکھیں خون سے سُنگھری تلوار ہیں اور گلاب جیسی ہیں؛ جب تک یہ نشیلی عادات نظر آتی رہیں گی، تب تک کب تک؟
2
जब ले नक़ाब मुँह पर तब दीद कर कि क्या क्या
दर-पर्दा शोख़ियाँ हैं फिर बे-हिजाबियाँ हैं
جب لے نقاب منہ پر تب دید کر کہ کیا کیا
در پردہ شوخیاں ہیں پھر بے حجابیاں ہیں
جب لے نقاب منہ پر تب دیکھ کہ کیا کیا
در پردہ شوخیان ہیں پھر بے حجابیاں ہیں
3
चाहे है आज हूँ मैं हफ़्त-आसमाँ के ऊपर
दिल के मिज़ाज में भी कितनी शिताबियाँ हैं
چاہے ہے آج ہوں میں ہفت آسماں کے اوپر
دل کے مزاج میں بھی کتنی شتابیاں ہیں
چاہے آج میں ہفت-آسمان کے اوپر ہوں، دل کے مزاج میں بھی کتنی ٹھنڈک ہے۔
4
जी बिखरे दिल ढहे है सर भी गिरा पड़े है
ख़ाना-ख़राब तुझ बिन क्या क्या ख़राबियाँ हैं
جی بکھرے دل ڈھے ہے سر بھی گرا پڑے ہے
خانہ خراب تجھ بن کیا کیا خرابیاں ہیں
اے، میرا دل بکھرا ہے، میرا سر بھی گر پڑا ہے،
تجھ بن کیا کیا خرابیاں ہیں؟
5
मेहमान 'मीर' मत हो ख़्वान-ए-फ़लक पे हरगिज़
ख़ाली ये मेहर-ओ-मह की दोनों रिकाबियाँ हैं
مہمان میرؔ مت ہو خوان فلک پہ ہرگز
خالی یہ مہر و مہ کی دونوں رکابیاں ہیں
مہمان 'میر'، کبھی بھی خوانِ فلک پر نہ آنا؛ یہ محبّت اور محبّت کے دونوں کمرے خالی ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
