تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیں — میر تقی میر

تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیں دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں

“My eyes are swords, stained with blood, and my eyes are roses; When will these intoxicating moods of yours cease to be seen?”

— میر تقی میر

معنی

میری آنکھیں خون سے سُنگھری تلوار ہیں اور گلاب جیسی ہیں؛ جب تک یہ نشیلی عادات نظر آتی رہیں گی، تب تک کب تک؟

تشریح

یہ شعر ایک دلکش مگر خطرناک حسن کی بات کرتا ہے۔ شاعر آنکھوں کا تشبیہ خون سے رنگے گلاب سے دیتے ہیں—یہ درد اور جمال کا امتزاج ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان نگاہوں نے دیکھا، تو یہ نشہ کتنا دیر تک قائم رہے گا؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.