غزل

शायद उस सादा ने रखा है ख़त

शायद उस सादा ने रखा है ख़त
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک اجنبی یا سادہ شخص کے رکھے ہوئے خط کے گرد گھومتی ہے۔ یہ خط ایک گہرے اور پراسرار پیار یا لگاؤ کی کہانی بیان کرتا ہے، جسے شاید شوق سے یا دور سے ہی لکھا گیا ہو۔ شاعر اس خط کے راز اور اس میں پنہاں پیغامات پر غور کرتے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
शायद उस सादा ने रखा है ख़त कि हमें मुत्तसिल लिक्खा है ख़त
شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط کہ ہمیں متصل لکھا ہے خط
شاید اس سادہ نے خط رکھا ہے، کہ ہمیں مسلسل خط لکھا ہے۔
2
शौक़ से बात बढ़ गई थी बहुत दफ़्तर उस को लिखें हैं क्या है ख़त
شوق سے بات بڑھ گئی تھی بہت دفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط
شوق سے بات بہت بڑھ گئی تھی، اب دفتَر میں اسے کیا لکھنا ہے خط۔
3
नामा कब यार ने पढ़ा सारा न कहा ये भी आश्ना है ख़त
نامہ کب یار نے پڑھا سارا نہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط
دوست نے سارے نام پڑھ کر سنائے، مگر خط میں یہ نہیں کہا کہ 'میں بھی عاشق ہوں۔'
4
साथ हम भी गए हैं दूर तलक जब उधर के तईं चला है ख़त
ساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلک جب ادھر کے تئیں چلا ہے خط
اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی دور دراز تک گئے ہیں، جب وہ خط اس جگہ پہنچا ہے۔
5
कुछ ख़लल राह में हुआ ऐ 'मीर' नामा-बर कब से ले गया है ख़त
کچھ خلل راہ میں ہوا اے میرؔ نامہ بر کب سے لے گیا ہے خط
کچھ خلل راہ میں ہوا اے 'میر'۔ نامہ‌بر کب سے لے گیا ہے خط؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.