غزل
ना किसी से पास मेरे यार का आना गया
ना किसी से पास मेरे यार का आना गया
یہ غزل فراق اور جدائی کے گہرے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ کسی سے، نہ میرے دوست سے، کسی کا آنا جانا ہوا ہے، بلکہ صرف دیدار کا جانا ہوا ہے۔ یہ نظم وقت کے گزر جانے اور محبوب کے دور चले جانے کے درد کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ना किसी से पास मेरे यार का आना गया
बस गया मैं जान से अब उस से ये जाना गया
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
بس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا
میرے یار کا نہ کسی سے پاس آنا ہوا اور نہ جانا۔ بس، میں نے اس سے یہ جان لیا کہ میری جان چلی گئی۔
2
कुछ न देखा फिर ब-जुज़ यक शोला-ए-पुर-पेच-ओ-ताब
शम्अ' तक तो हम ने देखा था कि परवाना गया
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
ہم نے پھر پیچ و خم اور چمک کی ایک شعلہ کے سوا کچھ نہیں دیکھا، کیونکہ ہم نے تو موم بتی کی شمع میں بھی پروانہ کے چلے جانے کا منظر دیکھ لیا تھا۔
3
एक ही चश्मक थी फ़ुर्सत सोहबत-ए-अहबाब की
दीदा-ए-तर साथ ले मज्लिस से पैमाना गया
ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کی
دیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا
شاعر کہتا ہے کہ صرف محبوبوں کی صحبت کے لیے ایک ہی جوڑی آنکھیں تھیں، مگر وہ آنکھیں محبوب کے ساتھ محفل سے چلی گئیں۔
4
गुल खिले सद रंग तो क्या बे-परी से ए नसीम
मुद्दतें गुज़रीं कि वो गुलज़ार का जाना गया
گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیم
مدتیں گزریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا
شاعر کہتا ہے کہ سچے رنگ میں کھلے ہوئے پھول کا کیا فائدہ، اے ناصیم، جب پورا باغ ہی کھو چکا ہے۔
5
दूर तुझ से 'मीर' ने ऐसा तअब खींचा कि शोख़
कल जो मैं देखा उसे मुतलक़ न पहचाना गया
دور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخ
کل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا
آپ سے 'میر' نے ایسا تڑپ کھینچا کہ شبخوش کل جو میں نے دیکھا، اسے میں مطلق نہیں پہچان سکا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
