غزل
न पूछ ख़्वाब ज़ुलेख़ा ने क्या ख़याल लिया
न पूछ ख़्वाब ज़ुलेख़ा ने क्या ख़याल लिया
یہ غزل زلیخا کے خوابوں کے رازوں پر سوال کرتی ہے، اور عاشق کو یاد دلاتی ہے کہ اس کے عشق میں کیا خیال کیا گیا۔ یہ بتاتی ہے کہ کیسے ہم بھی طلب کے راستے پر گرتے ہیں، اور کیسے بچھڑنے کے بعد ہمیں سنبھال لیا جاتا ہے۔ یہ غزل 'میر' کے ذریعے بتاتی ہے کہ ستم بھری نظریں کتنی تباہ کن ہو سکتی ہیں۔
نغمہ سنیں
1
न पूछ ख़्वाब ज़ुलेख़ा ने क्या ख़याल लिया
कि कारवाँ का कनआँ' के जी निकाल लिया
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
کہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیا
ن پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا کہ کارواں کے کنارے سے جی نکال لیا
2
रह-ए-तलब में गिरे होते सर के बल हम भी
शिकस्ता-पाई ने अपनी हमें सँभाल लिया
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
رہِ طلب میں گِرے ہوتے سر کے بل ہم بھی، شِکستہ پئی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی چاہت کے راستے میں سر کے بل گر گئے تھے، مگر دل شکستہ لوگوں نے ہمیں سہارا دیا اور سنبھال لیا۔
3
रहूँ हूँ बरसों से हम दोश पर कभू उन ने
गले मैं हाथ मिरा प्यार से न डाल लिया
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے
گلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
मैं बरसों से दोष पर सह रहा ہوں، مگر انہوں نے کبھی प्यार سے میرا ہاتھ نہیں تھاما۔
4
बुताँ की 'मीर' सितम वो निगाह है जिस ने
ख़ुदा के वास्ते भी ख़ल्क़ का वबाल लिया
بتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
بُتاں کی 'میر' ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خَلْق کا وبل لیا۔ (مطلب: بُتاں کی 'میر' کی وہ نگاہت اتنی ستمجوی ہے کہ اس نے خدا کے نام پر بھی پوری مخلوق کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔)
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
