غزل

कैसा चमन असीरी में किस को इधर ख़याल

कैसा चमन असीरी में किस को इधर ख़याल
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک ایسے ذہن کی کیفیت کو بیان کرتی ہے جو قید یا قید خانہ میں ہے، جہاں ذہن کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس چمن (زندگی) کی کشش کس کو اور کس وجہ سے اتنی زیادہ آ رہی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ بکھرے ہوئے خوابوں اور بگاڑ چکی یادوں کے نقشوں کو مٹانا مشکل ہے، اور جن صورتوں نے خراب کیا ہے ان کا خیال نہ کرنا چاہیے۔ مجموعی طور پر، یہ غزل ذہن کے پیچیدہ جذبات، وہم اور یادوں کے بوجھ کو پیش کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कैसा चमन असीरी में किस को इधर ख़याल पर्वाज़ ख़्वाब हो गई है बाल-ओ-पर ख़याल
کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال
یہ کیسا چمن قید میں، کس کو یہ خیال؟ پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال۔
2
मुश्किल है मिट गए हुए नक़्शों की फिर नुमूद जो सूरतें बिगड़ गईं उन का न कर ख़याल
مشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمود جو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال
مشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمو د، جو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال।
3
मू को अबस है ताब कली यूँ ही तंग है उस का दहन है वहम-ओ-गुमान-ओ-कमर ख़याल
مو کو عبث ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہے اس کا دہن ہے وہم و گمان و کمر خیال
مو کو ابس ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہے۔ اس کا دَھن ہے وہم و گمان و کمر خیال۔
4
रुख़्सार पर हमारे ढलकने को अश्क के देखे है जो कोई सो करे है गुहर ख़याल
رخسار پر ہمارے ڈھلکنے کو اشک کے دیکھے ہے جو کوئی سو کرے ہے گہر خیال
ہمارے رخسار پر جو آنسو گرتے ہیں، وہ صرف وہ لوگ دیکھتے ہیں جو گہرا خیال نہیں کرتے۔
5
किस को दिमाग़-ए-शेर-ओ-सुख़न ज़ोफ़ में कि 'मीर' अपना रहे है अब तो हमें बेशतर ख़याल
کس کو دماغ شعر و سخن ضعف میں کہ میرؔ اپنا رہے ہے اب تو ہمیں بیشتر خیال
اے میر! شاعری اور سخن کا دماغ کس کے پاس رکھا ہے؟ اب تو ہمیں بہت زیادہ خیال کرنے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.