غزل

जी में है याद रुख़-ओ-ज़ुल्फ़-ए-सियह-फ़ाम बहुत

जी में है याद रुख़-ओ-ज़ुल्फ़-ए-सियह-फ़ाम बहुत
میر تقی میر· Ghazal· 6 shers

یہ غزل محبوب کے چہرے اور سیاہ زلفوں کی یاد میں کھوئی ہوئی ہے۔ شاعر اپنے دل کی مسلسل بے چینی، دکھ اور جذبات کے طوفانوں کا اظہار کرتا ہے۔ یہ عشق کی گہری حسرت اور تڑپ کی عکاسی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जी में है याद रुख़-ओ-ज़ुल्फ़-ए-सियह-फ़ाम बहुत रोना आता है मुझे हर सहर-ओ-शाम बहुत
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
میرے دل میں تمہاری سیاہ زلف اور چہرے کی بہت یاد ہے، اس وجہ سے مجھے ہر صبح اور شام بہت رویا آتا ہے۔
2
दस्त-ए-सय्याद तलक भी न मैं पहुँचा जीता बे-क़रारी ने लिया मुझ को तह-ए-दाम बहुत
دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتا بے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت
میں زندہ ہو کر شاعر سیyad کے لمس تک بھی نہ پہنچا؛ / بے قریری نے مجھے تہہِ دَم بہت لے لیا ہے۔
3
एक दो चश्मक इधर गर्दिश-ए-साग़र कि मुदाम सर चढ़ी रहती है ये गर्दिश-ए-अय्याम बहुत
ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدام سر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت
ایک دو چشمۂ کہیں، یہ سمندر کی ہلچل ہے، اور دنوں کا یہ گردشی بہت سر پر چڑھا رہتا ہے۔
4
दिल-ख़राशी-ओ-जिगर-चाकी-ओ-ख़ूँ-अफ़्शानी हूँ तो नाकाम पे रहते हैं मुझे काम बहुत
دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی ہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت
دل-خراشی، جگر کی چاکی، جذبات کی چکر، اور خون کی افشانی—میں اتنا بھر گیا ہوں کہ میرے پاس بہت سے کام باقی ہیں۔
5
रह गया देख के तुझ चश्म पे ये सतर-ए-मिज़ा साक़िया यूँ तो पढ़े थे मैं ख़त-ए-जाम बहुत
رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہ ساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت
تیرے چشمے پر یہ نزاکت دیکھ کے میں بہلا ہوا؛ ساقیا، میں تو جام کی بہت کہانیاں سن چکا ہوں۔
6
फिर न आए जो हुए ख़ाक में जा आसूदा ग़ालिबन ज़ेर-ए-ज़मीं 'मीर' है आराम बहुत
پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہ غالباً زیر زمیں میرؔ ہے آرام بہت
اگر میں خاک نہ ہو جاؤں، تو اے میر، میرے آنسو پاک ہو جائیں گے۔ شاید زیرِ زمین بہت آرام ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.