غزل

दिल-ओ-दिमाग़ है अब किस को ज़िंदगानी का

दिल-ओ-दिमाग़ है अब किस को ज़िंदगानी का
میر تقی میر· Ghazal· 6 shers

یہ غزل زندگی کے مقصد اور جوانی کے گزرے ہوئے احساسات پر ایک گہرا تنقیدی تبصرہ ہے۔ شاعر یہ سوال کرتے ہیں کہ اب زندگی کا سہارا دل ہے یا دماغ، اور جوانی کا افسوس ایک مستقل احساس بن چکا ہے۔ یہ غزل وقت کے بدلتے ہوئے چہرے، جنون کے مدھم پڑنے، اور زندگی کی حقیقتوں کے سامنے ایک خاموش قبولیت پر روشنی ڈالتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिल-ओ-दिमाग़ है अब किस को ज़िंदगानी का जो कोई दम है तो अफ़्सोस है जवानी का
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا
دل اور دماغ اب کس کو زندگی کا سوال ہے، جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا۔
2
अगरचे उम्र के दस दिन ये लब रहे ख़ामोश सुख़न रहेगा सदा मेरी कम-ज़बानी का
اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموش سخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا
اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموش، سُخن رہے گا سدا میری کم‌زبانی کا۔
3
सुबुक है आवे जो मिंदील रख नमाज़ को शैख़ रहा है कौन सा अब वक़्त सरगिरानी का
سبک ہے آوے جو مندیل رکھ نماز کو شیخ رہا ہے کون سا اب وقت سرگرانی کا
جو شخص نماز کے لیے مندیل لے کر آتا ہے، شیخ کہتا ہے، 'اب بھٹکنے اور سرگِرانی کا وقت کس کا ہے?'
4
हज़ार जान से क़ुर्बान बे-परी के हैं ख़याल भी कभू गुज़रा न पर-फ़िशानी का
ہزار جان سے قربان بے پری کے ہیں خیال بھی کبھو گزرا نہ پرفشانی کا
ہزار جان سے قربان بے پری کے ہیں؛ خیال بھی کبہ گزرا نہ پر-فشانی کا۔ اس کا مطلب ہے کہ محبوب کے لیے ہزار جان قربان ہیں، اور کبھی بھی اس محبت کو بھولنے کا خیال ذہن میں نہیں آیا۔
5
फिरे है खींचे ही तलवार मुझ पे हर-दम तो कि सैद हूँ मैं तिरी दुश्मनी जानी का
پھرے ہے کھینچے ہی تلوار مجھ پہ ہر دم تو کہ صید ہوں میں تری دشمنی جانی کا
تم ہر دم مجھ پر تلوار کھینچتے رہتے ہو، مگر میں اتنا سادہ ہوں کہ مجھے تمہاری دشمنی کا علم نہیں۔
6
नुमूद कर के वहीं बहर-ए-ग़म में बैठ गया कहे तो 'मीर' भी इक बुलबुला था पानी का
نمود کر کے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا کہے تو میرؔ بھی اک بلبلا تھا پانی کا
نمूद کر کے وہیں بہرِ غم میں بیٹھ گیا، کہے تو 'میر' بھی اک بلبلہ تھا پانی کا۔ (مطلب: اپنا حال یا دل ننگا ننگا بہا کر وہ غم کے سمندر میں بیٹھ گیا اور کہتا ہے کہ 'میر' بھی تو بس پانی کا ایک بلبلہ تھا۔)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.