غزل
हाल-ए-दिल 'मीर' का रो रो के सब ऐ माह सुना
हाल-ए-दिल 'मीर' का रो रो के सब ऐ माह सुना
یہ غزل ایک عاشق کے دل کی کیفیت اور عشق کے راستے میں بھٹکنے کا بیان کرتی ہے، جو مرزا غالب کے انداز سے مطابقت رکھتی ہے۔ شاعر اپنے دل کا حال سنانے کی کوشش کرتا ہے، مگر محبوب یا دنیا اسے سمجھ نہیں پاتی۔ یہ غزل دردِ عشق اور پوشیدہ محبت کی گہرائی کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
हाल-ए-दिल 'मीर' का रो रो के सब ऐ माह सुना
शब को अल-क़िस्सा अजब क़िस्सा-ए-जाँ-काह सुना
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
اے ماہ! دل کا حال رو رو کے سب سنا؛ شب کو الّقِصّہ عجب قصّۂ جان کاہ سنا۔
2
ना-बलद हो के रह-ए-इश्क़ में पहुँचूँ तो कहीं
हमरा ख़िज़र को याँ कहते हैं गुमराह सुना
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں
ہمرا خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
اگر میں کمزور ہو کر عشق کے راستے پر پہنچ جاؤں، تو کہیں خضر بھی مجھے گمراہ کہہ کر پکارے گا۔
3
कोई इन तौरों से गुज़रे है तिरे ग़म में मिरी
गाह तू ने न सुना हाल मिरा गाह सुना
کوئی ان طوروں سے گزرے ہے ترے غم میں مری
گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
کوئی اِن طُروں سے گزرے ہے تیرے غم میں میری، گاہ تو نے نہ سنا حال میرا، گاہ سنا۔
4
ख़्वाब-ए-ग़फ़लत में हैं याँ सब तो अबस जागा 'मीर'
बे-ख़बर देखा उन्हें मैं जिन्हें आगाह सुना
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ
بے خبر دیکھا انہیں میں جنہیں آگاہ سنا
کیا سب غفلت کے خواب میں ہیں یاں، تو ابس جاگا ’میر‘؟ بے خبر دیکھا انہیں میں، جنہیں میں آگاه سنا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
