غزل
दिल जो था इक आबला फूटा गया
दिल जो था इक आबला फूटा गया
یہ غزل دل کی نازک پن اور اس کے ٹوٹنے کے درد کو بیان کرتی ہے، جیسے کوئی آبلہ پھوٹ جائے۔ اس میں محبت کے زخموں اور جدائی کی وجہ سے دل کی بے چینی اور ویرانی کو دکھایا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल जो था इक आबला फूटा गया
रात को सीना बहुत कूटा गया
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا، رات کو سینہ بہت کوٹا گیا۔
2
ताइर-ए-रंग-ए-हिना की सी तरह
दिल न इस के हाथ से छूटा गया
تیرِ رنگِ حنا کی طرح، دل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا۔
3
मैं न कहता था कि मुँह कर दिल की और
अब कहाँ वो आईना टूटा गया
میں نہیں کہتا تھا کہ میں نے دل کا منہ بند کر دیا، اور اب وہ آئینہ کہاں ٹوٹ گیا؟
4
दिल की वीरानी का क्या मज़कूर है
ये नगर सौ मर्तबा लूटा गया
دل کی ویرانی کا کیا مذاق ہے؟ یہ شہر سو مرتبہ لوٹا گیا।
5
'मीर' किस को अब दिमाग़-ए-गुफ़्तुगू
उम्र गुज़री रेख़्ता छूटा गया
میر (شاعِر) اب اپنے ذہن کی بات کس سے کرے؟ عمر گزر گئی، اور بس ایک ٹکڑا رہ گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
