غزل

दिल जो था इक आबला फूटा गया

दिल जो था इक आबला फूटा गया
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل دل کی نازک پن اور اس کے ٹوٹنے کے درد کو بیان کرتی ہے، جیسے کوئی آبلہ پھوٹ جائے۔ اس میں محبت کے زخموں اور جدائی کی وجہ سے دل کی بے چینی اور ویرانی کو دکھایا گیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिल जो था इक आबला फूटा गया रात को सीना बहुत कूटा गया
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا رات کو سینہ بہت کوٹا گیا
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا، رات کو سینہ بہت کوٹا گیا۔
2
ताइर-ए-रंग-ए-हिना की सी तरह दिल न इस के हाथ से छूटा गया
طائر رنگ حنا کی سی طرح دل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا
تیرِ رنگِ حنا کی طرح، دل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا۔
3
मैं न कहता था कि मुँह कर दिल की और अब कहाँ वो आईना टूटा गया
میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اور اب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا
میں نہیں کہتا تھا کہ میں نے دل کا منہ بند کر دیا، اور اب وہ آئینہ کہاں ٹوٹ گیا؟
4
दिल की वीरानी का क्या मज़कूर है ये नगर सौ मर्तबा लूटा गया
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
دل کی ویرانی کا کیا مذاق ہے؟ یہ شہر سو مرتبہ لوٹا گیا।
5
'मीर' किस को अब दिमाग़-ए-गुफ़्तुगू उम्र गुज़री रेख़्ता छूटा गया
میرؔ کس کو اب دماغ گفتگو عمر گزری ریختہ چھوٹا گیا
میر (شاعِر) اب اپنے ذہن کی بات کس سے کرے؟ عمر گزر گئی، اور بس ایک ٹکڑا رہ گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.