غزل

मुझ सोज़ बा'द-ए-मर्ग से आगाह कौन है

मुझ सोज़ बा'द-ए-मर्ग से आगाह कौन है
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل زندگی اور موت کے اسرار پر غور کرتی ہے، جس میں شاعر پوچھتا ہے کہ موت کے بعد کے تجربات سے کون آگاہ ہے۔ اس میں ایک مسافر کی بے چینی، سچے رہنما کی تلاش، اور خدا کی ہر جگہ موجود ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मुझ सोज़ बा'द-ए-मर्ग से आगाह कौन है शम-ए-मज़ार मीर ब-जुज़ आह कौन है
مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے شمع مزار میر بجز آہ کون ہے
مجھ سوز باعدِ مَرگ سے آگاہ کون ہے؟ شمعِ مزار میر ب-جُز آه کون ہے؟
2
बेकस हूँ मुज़्तरिब हूँ मुसाफ़िर हूँ बे-वतन दूरी-ए-राह बन मिरे हमराह कौन है
بیکس ہوں مضطرب ہوں مسافر ہوں بے وطن دوری راہ بن مرے ہم راہ کون ہے
میں بے کس ہوں، مضطرب ہوں، مسافر ہوں، بے وطن؛ دوری کے راستے پر میرا ہمراہ کون ہے؟
3
लबरेज़ जिस के हुस्न से मस्जिद है और दैर ऐसा बुतों के बीच वो अल्लाह कौन है
لبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دیر ایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے
لبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دائر، ایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے؟ (مطلب: جس کی خوبصورتی اتنی زیادہ ہے کہ اس سے مسجد اور مندر دونوں بنے، ایسے حسن کے سامنے خدا کا وجود کیا کچھ ہے؟)
4
रखियो क़दम सँभल के कि तू जानता नहीं मानिंद-ए-नक़्श-ए-पा ये सर-ए-राह कौन है
رکھیو قدم سنبھل کے کہ تو جانتا نہیں مانند نقش پا یہ سر راہ کون ہے
احتیاط سے قدم رکھنا، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ اس راستے کے سر پر کس کا نقش-ए-پا ہے، کون ہے۔
5
ऐसा असीर ख़स्ता-जिगर मैं सुना नहीं हर आह 'मीर' जिस की है जाँ-काह कौन है
ایسا اسیر خستہ جگر میں سنا نہیں ہر آہ میرؔ جس کی ہے جانکاہ کون ہے
شاعر کہتا ہے کہ اُس نے ایسا کوئی بیمار اور کمزور دل نہیں سنا، جس کے درد کی گہرائی کو کوئی سمجھ سکے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.