غزل
कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है
कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है
آپ کی زبان پر بات کرنا تو نہایت بے ادبی ہے۔ یہ نظم زندگی کے مشکل تجربات اور مایوسیوں کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر خطرہ ہے۔ اس میں خودوقار کے لیے جدوجہد اور اپنے حقیقی حال کو سمجھنے کی دشواری کا ذکر کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है
ज़ाहिद जो सिफ़त तुझ में है सोज़न-ए-जलबी है
تیرے منہ پر بات کرنا تو بالکل بے ادبی ہے، کیونکہ تجھ میں جو صفت ہے وہ بہار کا جلتا جنون ہے۔
2
इस दश्त में ऐ सैल सँभल ही के क़दम रख
हर सम्त को याँ दफ़्न मरी तिश्ना-लबी है
اس صحرا میں اے دوست، اپنے قدم سنبھال کر رکھنا، کیونکہ ہر طرف کہیں نہ کہیں پیاسا منہ دبا ہوا ہے۔
3
हर इक से कहा नींद में पर कोई न समझा
शायद कि मिरे हाल का क़िस्सा अरबी है
میں نے یہ بات ہر ایک کو نیند میں کہی، مگر کوئی نہ سمجھا؛ شاید میرے حال کا قصہ عربی ہے۔
4
उज़्लत से निकल शैख़ कि तेरे लिए तयार
कोई हफ़्त-गज़ी मेख़ कोई दह-वजबी है
عزت سے نکل شیخ آپ کے لیے تیار ہیں، ایک حفتغازی کی میخ اور دَہوجبی کا مشعل۔
5
ऐ चर्ख़ न तू रोज़-ए-सियह 'मीर' पे लाना
बेचारा वो इक नारा-ज़न नीम-शबी है
اے چرخ، نہ تو مجھے روزِ سیاہ پر لانا؛ بیچارہ وہ اک نارا-ज़न نیم شبّی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
