غزل

कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है

कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

آپ کی زبان پر بات کرنا تو نہایت بے ادبی ہے۔ یہ نظم زندگی کے مشکل تجربات اور مایوسیوں کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر خطرہ ہے۔ اس میں خودوقار کے لیے جدوجہد اور اپنے حقیقی حال کو سمجھنے کی دشواری کا ذکر کیا گیا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है ज़ाहिद जो सिफ़त तुझ में है सोज़न-ए-जलबी है
کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے زاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہے
تیرے منہ پر بات کرنا تو بالکل بے ادبی ہے، کیونکہ تجھ میں جو صفت ہے وہ بہار کا جلتا جنون ہے۔
2
इस दश्त में ऐ सैल सँभल ही के क़दम रख हर सम्त को याँ दफ़्न मरी तिश्ना-लबी है
اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھ ہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے
اس صحرا میں اے دوست، اپنے قدم سنبھال کر رکھنا، کیونکہ ہر طرف کہیں نہ کہیں پیاسا منہ دبا ہوا ہے۔
3
हर इक से कहा नींद में पर कोई न समझा शायद कि मिरे हाल का क़िस्सा अरबी है
ہر اک سے کہا نیند میں پر کوئی نہ سمجھا شاید کہ مرے حال کا قصہ عربی ہے
میں نے یہ بات ہر ایک کو نیند میں کہی، مگر کوئی نہ سمجھا؛ شاید میرے حال کا قصہ عربی ہے۔
4
उज़्लत से निकल शैख़ कि तेरे लिए तयार कोई हफ़्त-गज़ी मेख़ कोई दह-वजबी है
عزلت سے نکل شیخ کہ تیرے لیے تیار کوئی ہفت گزی میخ کوئی دہ وجبی ہے
عزت سے نکل شیخ آپ کے لیے تیار ہیں، ایک حفت‌غازی کی میخ اور دَہ‌وجبی کا مشعل۔
5
ऐ चर्ख़ न तू रोज़-ए-सियह 'मीर' पे लाना बेचारा वो इक नारा-ज़न नीम-शबी है
اے چرخ نہ تو روز سیہ میرؔ پہ لانا بیچارہ وہ اک نعرہ زن نیم شبی ہے
اے چرخ، نہ تو مجھے روزِ سیاہ پر لانا؛ بیچارہ وہ اک نارا-ज़न نیم شبّی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

कहना तिरे मुँह पर तो निपट बे-अदबी है | Sukhan AI