غزل
रात गुज़रे है मुझे नज़्अ' में रोते रोते
रात गुज़रे है मुझे नज़्अ' में रोते रोते
یہ غزل جدائی اور بے چینی کے گہرے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر رات بھر نظموں میں روتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جیسے ہی صبح ہوگی، اس کی آنکھیں تھک کر بند ہو جائیں گی اور جاگنا ایک خواب جیسا محسوس ہوگا۔ یہ نظم محبت کی یادوں کے سبب دل میں مسلسل درد اور بے چینی کا احساس برقرار رکھتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रात गुज़रे है मुझे नज़्अ' में रोते रोते
आँखें फिर जाएँगी अब सुब्ह के होते होते
میں رات بھر یادوں کی شاعری سن کر روتا رہا، اور میری آنکھیں اب صبح ہوتے ہی کھل جائیں گی۔
2
खोल कर आँख उड़ा दीद जहाँ का ग़ाफ़िल
ख़्वाब हो जाएगा फिर जागना सोते सोते
کھول کر آنکھ اُڑا دی دِید جہاں کا غافل، خواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے۔
3
दाग़ उगते रहे दिल में मिरी नौमीदी से
हारा में तुख़्म तमन्ना को भी बूते बूते
میرے دل میں میری جھوٹی امیدوں سے داغ اُگتے رہے، اور چاہت کے بیج بھی بے کار بکھرے۔
4
जी चला था कि तिरे होंट मुझे याद आए
ला'ल पाएँ हैं मैं इस जी ही के खोते खोते
جب میں چل رہا تھا کہ تیرے ہونٹ مجھے یاد آئے، لا'ل پائے ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے۔
5
जम गया ख़ूँ कफ़-ए-क़ातिल पे तरह 'मीर' ज़ि-बस
उन ने रो रो दिया कल हाथ को धोते धोते
اے میر، قاتل کے ہاتھ پر جو خون جم گیا تھا، وہ انہوں نے روتے ہوئے، ہاتھ دھوتے وقت دھو دیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
