Sukhan AI
غزل

याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए

याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل اس کیفیت کو بیان کرتی ہے کہ ایک شخص، جو بادشاہ یا محفل کا مرکز ہے، اپنی اصل قدر کو نہیں جانتا۔ شاعر کا اشارہ ہے کہ جو لوگ اس محفل یا شخص سے دور ہو گئے، انہیں بہت پچھتاوا ہوگا، بالکل جیسے کسی کے جانے سے باغ کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज लवा हुए पामाल हो गए तो जाना कि क्या हुए
اگر صاحبِ تاج، جو عظیم رب ہے، بھٹک جائے اور بہک جائے، تو نہ جاننا کہ کیا ہوا جب وہ مفلس ہو گیا۔
2
देखी एक चश्मक-ए-गुल भी चमन में आह हम आख़िर बहार-ए-क़फ़स से रहा हुए
باغ میں ایک پھول کا نظارہ بھی نہیں دیکھا، پھر بھی ہم قفس کی بہار سے جا رہے ہیں۔
3
पछताओगे बहुत जो गए हम जहाँ से आदम की क़द्र होती है ज़ाहिर जुदा हुए
تم اس جگہ کو بہت یاد کرو گے جہاں سے ہم گئے، اور انسان کی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ جدا ہو جاتا ہے۔
4
तुझ बिन दिमाग़ सोहबत-ए-अहल-ए-चमन था गुल वा हुए हज़ार वले हम वा हुए
تجھ سے پہلے، باغ کے لوگوں کی صحبت خالی تھی؛ اگرچہ ہزار گل کھل گئے، میں نہیں کھلا۔
5
सर दे के 'मीर' हम ने फ़राग़त की 'इश्क़ में ज़िम्मे हमारे बोझ था बारे अदा हुए
سر دے کے 'میر' ہم نے فراغت کی 'عشق میں'; ذمہ ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए | Sukhan AI