غزل
याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए
याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए
یہ غزل اس کیفیت کو بیان کرتی ہے کہ ایک شخص، جو بادشاہ یا محفل کا مرکز ہے، اپنی اصل قدر کو نہیں جانتا۔ شاعر کا اشارہ ہے کہ جو لوگ اس محفل یا شخص سے دور ہو گئے، انہیں بہت پچھتاوا ہوگا، بالکل جیسے کسی کے جانے سے باغ کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
याँ सरकशाँ जो साहब-ए-ताज ओ लवा हुए
पामाल हो गए तो न जाना कि क्या हुए
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
پامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے
اگر صاحبِ تاج، جو عظیم رب ہے، بھٹک جائے اور بہک جائے، تو نہ جاننا کہ کیا ہوا جب وہ مفلس ہو گیا۔
2
देखी न एक चश्मक-ए-गुल भी चमन में आह
हम आख़िर बहार-ए-क़फ़स से रहा हुए
دیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہ
ہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے
باغ میں ایک پھول کا نظارہ بھی نہیں دیکھا، پھر بھی ہم قفس کی بہار سے جا رہے ہیں۔
3
पछताओगे बहुत जो गए हम जहाँ से
आदम की क़द्र होती है ज़ाहिर जुदा हुए
پچھتاؤ گے بہت جو گئے ہم جہاں سے
آدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے
تم اس جگہ کو بہت یاد کرو گے جہاں سے ہم گئے، اور انسان کی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ جدا ہو جاتا ہے۔
4
तुझ बिन दिमाग़ सोहबत-ए-अहल-ए-चमन न था
गुल वा हुए हज़ार वले हम न वा हुए
تجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھا
گل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے
تجھ سے پہلے، باغ کے لوگوں کی صحبت خالی تھی؛ اگرچہ ہزار گل کھل گئے، میں نہیں کھلا۔
5
सर दे के 'मीर' हम ने फ़राग़त की 'इश्क़ में
ज़िम्मे हमारे बोझ था बारे अदा हुए
سر دے کے میرؔ ہم نے فراغت کی عشق میں
ذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے
سر دے کے 'میر' ہم نے فراغت کی 'عشق میں'; ذمہ ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
