غزل

दिन नहीं रात नहीं सुब्ह नहीं शाम नहीं

दिन नहीं रात नहीं सुब्ह नहीं शाम नहीं
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

غزل وقت اور محبت کی پیچیدہ اور غیر متوقع فطرت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ وقت کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے، اور محبت کا حصول بھی ایسے وقت پر ہوتا ہے جو کبھی نہیں آتا۔ یہ وفاداری اور تڑپ کے درمیان کے کشمکش کو پیش کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिन नहीं रात नहीं सुब्ह नहीं शाम नहीं वक़्त मिलने का मगर दाख़िल-ए-अय्याम नहीं
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
دن نہیں، رات نہیں، صبح نہیں، شام نہیں؛ وقت ملنے کا مگر दाख़िल-ए-ایام نہیں۔
2
मिस्ल अन्क़ा मुझे तुम दूर से सुन लो वर्ना नंग-ए-हस्ती हूँ मिरी जाए ब-जुज़ नाम नहीं
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ ننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں
اے دوست، میری کہانی کو دور سے سن لینا، ورنہ میرا وجود نام کے سوا ننگ ہو جائے گا۔
3
ख़तर राह-ए-वफ़ा बल्कि बहुत दूर खिंचा उम्र गुज़री कि बहम नामा-ओ-पैग़ाम नहीं
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا عمر گزری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
وفا کا راستہ خطرناک نہیں تھا، بلکہ بہت دور کھنچا؛ عمر گزر گئی کہ بہم نامہ و پیغام نہیں۔
4
राज़-पोशी-ए-मोहब्बत के तईं चाहिए ज़ब्त सो तो बे-ताबी-ए-दिल बिन मुझे आराम नहीं
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط سو تو بے تابئ دل بن مجھے آرام نہیں
محبت کے راز کو ضبط کی ضرورت ہے، مگر اگر میں دل کی بے تابی کے بغیر سو جاؤں تو مجھے آرام نہیں آتا۔
5
बे-क़रारी जो कोई देखे है सो कहता है कुछ तो है 'मीर' कि इक दम तुझे आराम नहीं
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے کچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں
جو کوئی بے قراری کو دیکھے، وہ کہتا ہے کہ 'میر' میں کچھ ایسا ہے کہ اسے ذرا بھی سکون نہیں ملتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.