غزل
हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं
हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं
یہ غزل فراق کے شدید دکھ اور جذبات کی شدت کے باعث کمزوری کی حالت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ محبوب کے دکھ کی وجہ سے بے جان ہو گئے ہیں اور اب وہ خود بھی سونے کی کیفیت میں ہیں۔ یہ زندگی کی فانیت اور عشق کے زخموں سے ہونے والے گہرے نقصان کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं
सर मार मार या'नी अब हम भी सो चले हैं
ہجر کے کفن کھینچتے بے جان سے ہو چلے ہیں، سر مار مار یا'نی اب ہم بھی سو چلے ہیں۔
2
जवीं रहेंगी जारी गुलशन में एक मुद्दत
साए में हर शजर के हम ज़ोर रो चले हैं
گُلشن میں گلاب کچھ عرصے تک کھلتے رہیں گے، مگر ہر درخت کی سائے میں ہم نے بہت آنسو بہائے ہیں۔
3
लबरेज़ अश्क आँखें हर बात में रहा कीं
रो रो के काम अपने सब हम डुबो चले हैं
لबरेज़، ہر بات میں آنکھوں میں اشک لیے ہوئے، رو رو کر ہم نے اپنے سارے کام ڈبو دیے ہیں۔
4
पछताइए न क्यूँकर जी इस तरह से दे कर
ये गौहर-गिरामी हम मुफ़्त खो चले हैं
پچھتائیے نہ کیوںکر جی اِس طرح سے دے کر، یہ گوہر-گِرامی ہم مُفت کھو چلے ہیں
5
क़त्अ तरीक़ मुश्किल है इश्क़ का निहायत
वे 'मीर' जानते हैं इस राह जो चले हैं
قَطْعِ طَرِیقِ مُشْکِل ہے اِشْق کا نِہَایَت / وہ 'میر' جانتے ہیں اِس راہ جو چلے ہیں
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
