غزل

हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं

हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل فراق کے شدید دکھ اور جذبات کی شدت کے باعث کمزوری کی حالت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ محبوب کے دکھ کی وجہ سے بے جان ہو گئے ہیں اور اب وہ خود بھی سونے کی کیفیت میں ہیں۔ یہ زندگی کی فانیت اور عشق کے زخموں سے ہونے والے گہرے نقصان کو ظاہر کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हिज्राँ की कोफ़्त खींचे बे-दम से हो चले हैं सर मार मार या'नी अब हम भी सो चले हैं
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
ہجر کے کفن کھینچتے بے جان سے ہو چلے ہیں، سر مار مار یا'نی اب ہم بھی سو چلے ہیں۔
2
जवीं रहेंगी जारी गुलशन में एक मुद्दत साए में हर शजर के हम ज़ोर रो चले हैं
جوئیں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت سائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
گُلشن میں گلاب کچھ عرصے تک کھلتے رہیں گے، مگر ہر درخت کی سائے میں ہم نے بہت آنسو بہائے ہیں۔
3
लबरेज़ अश्क आँखें हर बात में रहा कीं रो रो के काम अपने सब हम डुबो चले हैं
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں رو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
لबरेज़، ہر بات میں آنکھوں میں اشک لیے ہوئے، رو رو کر ہم نے اپنے سارے کام ڈبو دیے ہیں۔
4
पछताइए न क्यूँकर जी इस तरह से दे कर ये गौहर-गिरामी हम मुफ़्त खो चले हैं
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کر یہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
پچھتائیے نہ کیوںکر جی اِس طرح سے دے کر، یہ گوہر-گِرامی ہم مُفت کھو چلے ہیں
5
क़त्अ तरीक़ मुश्किल है इश्क़ का निहायत वे 'मीर' जानते हैं इस राह जो चले हैं
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت وے میرؔ جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
قَطْعِ طَرِیقِ مُشْکِل ہے اِشْق کا نِہَایَت / وہ 'میر' جانتے ہیں اِس راہ جو چلے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.